غزل 7 اشعار

دکھ تماشا تو نہیں ہے کہ دکھائیں بابا

Dukh tamasha to nahin hai ki dikhaen baba

دکھ تماشا تو نہیں ہے کہ دکھائیں بابارو چکے اور نہ اب ہم کو رلائیں بابا

کیسی دہشت ہے کہ خواہش سے بھی ڈر لگتا ہےمنجمد ہو گئی ہونٹوں پہ دعائیں بابا

موت ہے نرم دلی کے لیے بدنام ان میںہیں یہاں اور بھی کچھ ایسی بلائیں بابا

داغ دکھلائیں ہم ان کو تو یہ مٹ جائیں گے کیاغم گساروں سے کہو یوں نہ ستائیں بابا

ہم صفیران چمن یاد تو کرتے ہوں گےپر قفس تک نہیں آتیں وہ صدائیں بابا

پتے شاخوں سے برستے رہے اشکوں کی طرحرات بھر چلتی رہیں تیز ہوائیں بابا

آگ جنگل میں بھڑکتی ہے ضیاؔ شہر میں باتکیسے بھڑکے ہوئے شعلوں کو بجھائیں بابا

— ضیاء جالندھری