غزل 7 اشعار

اک خواب تھا آنکھوں میں جو اب اشک سحر ہے

Ek khwab tha aankhon mein jo ab ashk-e-sahar hai

اک خواب تھا آنکھوں میں جو اب اشک سحر ہےاک طائر وحشی تھا سو وہ خون میں تر ہے

وہ دور نہیں ہے یہ رسائی نہیں ہوتیہر لمحہ کوئی تازہ خم راہ گزر ہے

دل آج کچھ اس طرح دھڑکتا ہے کہ جیسےاب شوق ملاقات پہ حاوی کوئی ڈر ہے

کچھ حوصلۂ ضبط ہے کچھ وضع ہے اپنیشعلہ نہ بنا لب پہ جو سینے میں شرر ہے

سنتے تو رہے سب کی یہ حسرت رہی دل میںہم پر بھی کھلے زیست کا مفہوم اگر ہے

تاراج بہاراں ہے کہ اک جشن جنوں ہےرقصاں ہیں بگولے کہ ہوا خاک بسر ہے

آشفتہ کیا اتنا ضیاؔ دربدری نےباور نہیں آتا کہ ہمارا کوئی گھر ہے

— ضیاء جالندھری