غزل 5 اشعار

چھیڑی بھی جو رسم و راہ کی بات

Chhedi bhi jo rasm-o-rah ki baat

چھیڑی بھی جو رسم و راہ کی باتوہ سن نہ سکے نگاہ کی بات

ہر لحظہ بدل رہے ہیں حالاتمجھ سے نہ کرو نباہ کی بات

کہتے ہیں تری مژہ کے تارےخود میری شب سیاہ کی بات

اب ہے وہ نگہ نہ وہ تبسمکچھ اور تھی گاہ گاہ کی بات

کیا یاد نہ آئے گا یہ انجامکس دل سے کریں گے چاہ کی بات

— ضیاء جالندھری