غزل 7 اشعار

کتنے امکاں تھے جو خوابوں کے سہارے دیکھے

Kitne imkan the jo khwabon ke sahaare dekhe

کتنے امکاں تھے جو خوابوں کے سہارے دیکھےماورا تھے جو نظر سے وہ نظارے دیکھے

پردے اٹھتے گئے آنکھوں سے تو رفتہ رفتہبرگ گل برف میں پتھر میں شرارے دیکھے

دل پہ اس وقت کھلا حوصلۂ غم کا جمالاپنے ہر رنگ میں جب روپ تمہارے دیکھے

آسرے جاتے رہے آس ابھی باقی ہےپو بھی پھوٹے گی جہاں ڈوبتے تارے دیکھے

دل کو خوں کرنے کی حسرت ہو اسے بھی شایدصاحب سادہ اگر رنگ ہمارے دیکھے

خوب و نا خوب میں کیا فرق کریں ہم کہ یہاںجب ہوا پلٹی تو مڑتے ہوئے دھارے دیکھے

مجھے اس بزم میں کہنا تو بہت کچھ تھا ضیاؔبجھ گئے لفظ جب آنکھوں کے اشارے دیکھے

— ضیاء جالندھری