غزل 6 اشعار

دے گیا درد بے طلب کوئی

De gaya dard-e-be-talab koi

دے گیا درد بے طلب کوئیمیرا ہمدرد تھا عجب کوئی

کون نکلا ہے اپنی الجھن سےاور کو پا سکا ہے کب کوئی

یہ اجالا یہ دن کہاں ہوں میںمجھ سے کچھ کہہ رہا تھا شب کوئی

اب جو روٹھے تو جاں پہ بنتی ہےخوش ہوا مجھ سے بے سبب کوئی

میری منزل مجھے نہیں معلومصبح کوئی ہے اور شب کوئی

موت اور آرزو کی موت ضیاؔہاں بہت مطمئن ہے اب کوئی

— ضیاء جالندھری