غزل 8 اشعار

شمع حق شعبدۂ حرف دکھا کر لے جائے

Sham-e-haq shoabada-e-harf dikha kar le jae

شمع حق شعبدۂ حرف دکھا کر لے جائےکہیں تجھ کو ہی نہ تجھ سے کوئی آ کر لے جائے

پہنے پھرتے ہیں جو پیراہن سقراط و مسیحان کا بہروپ نہ دل تیرا لبھا کر لے جائے

تو چڑھاوا تو نہیں ہے کہ کوئی سحر مقالسوئے مقتل تجھے لفظوں میں سجا کر لے جائے

تو کوئی سوکھا ہوا پتہ نہیں ہے کہ جسےجس طرف موج ہوا چاہے اڑا کر لے جائے

تیری اقدار پر کاہ نہیں ہیں کہ جوں ہیکوئی لہر اٹھے انہیں ساتھ بہا کر لے جائے

لوگ تو تاک میں ہیں ایسا نہ ہو کوئی تجھےخود ترے خوف کی زنجیر پنہا کر لے جائے

جا بجا شعلہ بیاں چرب زباں تاک میں ہیںکوئی تجھ کو بھی نہ باتوں میں لگا کر لے جائے

لفظ تیروں کی طرح وعظ سناں کے ماننددل وحشی کو کہاں کوئی بچا کر لے جائے

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں