غزل 9 اشعار

دیکھیں آئینے کے مانند سہیں غم کی طرح

Dekhen aaine ke manind sahen gham ki tarah

دیکھیں آئینے کے مانند سہیں غم کی طرحہم کہ ہیں بزم گل و لالہ میں شبنم کی طرح

وقت بے مہر ہے اس فرصت کمیاب میں تممیری آنکھوں میں رہو خواب مجسم کی طرح

عرصۂ عمر میں کیا کیا نہ رتیں آئیں مگرکوئی ٹھہری نہ یہاں درد کے موسم کی طرح

کس طرح اس سے کہوں زخم بھی ہیں اس کی عطاہاتھ جس کا مرے سینے پہ ہے مرہم کی طرح

میں نے چاہا تھا کہ اک جست میں پہنچوں لیکنراہ میں سنگ تھے البتہ و تاہم کی طرح

تیرا احساں ہے کہ شاداب رہا کنج خیالدل پر خوں کی طرح دیدۂ پر نم کی طرح

اس کی گفتار نے چھوڑا نہ کہیں کا ہم کوذائقہ شہد سا تھا اور اثر سم کی طرح

لوگ تسلیم سے تخریب تک آ پہنچے ہیںڈالنے نکلے ہیں اک اور ہی عالم کی طرح

سعیٔ اظہار ضیاؔ کانچ کے ٹوٹے ہوئے لفظآرزوئیں ہیں کسی محفل برہم کی طرح

— ضیاء جالندھری