غزل 7 اشعار

جی رہا ہوں پہ کیا یوں ہی جیتا رہوں

Ji raha hun pa kya yunhi jita rahun

جی رہا ہوں پہ کیا یوں ہی جیتا رہوںمیں نہ تیری تڑپ ہوں نہ اپنا سکوں

اب تو سرما کی شب بن کے ٹھٹھرے ہے خوںاور کب تک تمہاری تمنا کروں

تم کو چاہا کہ تھی نرگسیت فزوںاپنا خواہاں تمہاری وساطت سے ہوں

ایسے روٹھے تھے لیکن ملے ہیں تو یوںچاہتا ہوں کہ ان سے نہ کچھ بھی کہوں

ہجر جاں کا زیاں وصل مرگ جنوںجیتے رہنے کا امکان یوں ہے نہ یوں

تھاہ اس دل کی دیکھیں پہ دیکھیں تو کیوںدیکھا جائے گا کیا اپنے خوابوں کا خوں

فکر سود و زیاں خاک آلودہ ہوںمیں کہ تھا طائر وسعت نیلگوں

— ضیاء جالندھری