غزل 5 اشعار

دل ہی دل میں سلگ کے بجھے ہم اور سہے غم دور ہی دور

Dil hi dil mein sulag ke bujhe hum aur sahe gham dur hi dur

دل ہی دل میں سلگ کے بجھے ہم اور سہے غم دور ہی دورتم سے کون سی آس بندھی تھی تم سے رہے ہم دور ہی دور

تم نے ہم کو جب بھی دیکھا شکر بہ لب تھے یا خاموشیوں تو اکثر روئے لیکن چھپ چھپ کم کم دور ہی دور

جل جل بجھ گئی کونپل کونپل کیا کیا ارماں خاک ہوئےآنکھیں تو بھر لائے پہ بادل برسے چھم چھم دور ہی دور

ایک وہ آن کہ ان کی ذرا سی بات گوارا کر نہ سکےایک یہ حال کہ یاد میں ان کی روئے پیہم دور ہی دور

ترک طلب پر خوش تھے کہ آخر کام لیا دانائی سےکس کو خبر ہے جلتے رہے تم جلتے رہے ہم دور ہی دور

— ضیاء جالندھری