غزل 9 اشعار

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو

Aankhon mein nihan hai jo munajat wo tum ho

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہوجس سمت سفر میں ہے مری ذات وہ تم ہو

جو سامنے ہوتا ہے کوئی اور ہے شایدجو دل میں ہے اک خواب ملاقات وہ تم ہو

دن آئے گئے جیسے سرائے میں مسافرٹھہری رہی آنکھوں میں جو اک رات وہ تم ہو

ہر بات میں شامل ہیں تصور کے کئی رنگہر رنگ تصور میں ہے جو بات وہ تم ہو

جب دھول ہوئے راہ سفر میں تو یہ جانامنزل گہہ جاں ہیں جو مقامات وہ تم ہو

دکھ حد سے جو گزرا تو کھلا دل پہ کہ یوں بھیدر پردہ ہے جو محو مدارات وہ تم ہو

دل جوئی کا انداز بھی نرمی بھی وہی ہےسینے پہ ہوا رکھتی ہے جو ہات وہ تم ہو

باقی تو اندھیرے ہی محیط دل و جاں ہیںمہر و مہ و انجم ہیں جو لمحات وہ تم ہو

ہاں مجھ پہ ستم بھی ہیں بہت وقت کے لیکنکچھ وقت کی ہیں مجھ پہ عنایات وہ تم ہو

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں