غزل 6 اشعار

دل میں جو کچھ ہے ابھی اس کی پذیرائی نہیں

Dil mein jo kuchh hai abhi uski pazirai nahin

دل میں جو کچھ ہے ابھی اس کی پذیرائی نہیںمیں کہ خوشبو ہوں پہ کھلنے کی گھڑی آئی نہیں

ان کہی بات کے سو روپ کہی بات کا ایککبھی سن وہ بھی جو منت کش گویائی نہیں

میری نظروں میں ہے کھلتے ہوئے پھولوں کی طرحوہ نمی جو ابھی شاخوں میں بھی لہرائی نہیں

کیا مناظر تھے کہ جو دیکھتی آنکھوں دیکھےخواب بنتا ہوں کہ آسودۂ بینائی نہیں

سبھی دانا سبھی سر ڈال کے چپ بیٹھ رہےکہ یہاں کوئی بھی شائستۂ رسوائی نہیں

دل بجھا ہو تو گل نغمہ بھی نشتر ہے ضیاؔشدت غم کا علاج انجمن آرائی نہیں

— ضیاء جالندھری