غزل 6 اشعار

فضائیں اس قدر بے کل رہی ہیں

Fazaen is qadar be-kal rahi hain

فضائیں اس قدر بے کل رہی ہیںیہ آنکھیں رات بھر جل تھل رہی ہیں

دبے پاؤں مری تنہائیوں میںہوائیں خواب بن کر چل رہی ہیں

سحر دم صحبت رفتہ کی یادیںمرے پہلو میں آنکھیں مل رہی ہیں

ترا غم کاکلیں کھولے ہوئے ہےمرے سینے میں شامیں ڈھل رہی ہیں

اندھیروں میں کمی کیا ہوگی لیکنیہ شمعیں شام ہی سے جل رہی ہیں

ضیاؔ ان ساعتوں میں کھو گئے ہمکھلی آنکھوں سے جو اوجھل رہی ہیں

— ضیاء جالندھری