غزل 7 اشعار

گو سر ارتقا و بقا میرا جسم ہے

Go sirr-e-irtiqa-o-baqa mera jism hai

گو سر ارتقا و بقا میرا جسم ہےسنتا ہوں تو فنا کی سدا میرا جسم ہے

میں ہوں ازل سے وقت کی گردش کا راز داریہ بزم کائنات ہے کیا میرا جسم ہے

ایسا رہا چمن میں کہ محسوس یہ ہواجو گل کھلا جو سبزہ اگا میرا جسم ہے

آنکھوں کے ماورا جھلک اٹھتا ہے گاہ گاہوہ شوخ جس کی سادہ قبا میرا جسم ہے

میری تلاش میری طلب بے حد و حسابمیری حدود میری سزا میرا جسم ہے

شب کی دبیز تیرگیوں کے جواب میںیہ ایک ٹمٹماتا دیا میرا جسم ہے

اک مشتعل ہجوم سر رہ گزار تھاپوچھا کہ کیا ہے میں نے کہا میرا جسم ہے

— ضیاء جالندھری