غزل 9 اشعار

شجر جلتے ہیں شاخیں جل رہی ہیں

Shajar jalte hain shakhen jal rahi hain

شجر جلتے ہیں شاخیں جل رہی ہیںہوائیں ہیں کہ پیہم چل رہی ہیں

طلب رد طلب دونوں قیامتیہ آنکھیں عمر بھر جل تھل رہی ہیں

چمکتا چاند چہرہ سامنے تھاامنگیں بحر تھیں بیکل رہی ہیں

دبے پاؤں مری تنہائیوں میںہوائیں خواب بن کر چل رہی ہیں

سحر دم صحبت رفتہ کی یادیںمرے پہلو میں آنکھیں مل رہی ہیں

تری یاد اور بے خوابی کی راتیںیہ پلکیں آنکھ پر بوجھل رہی ہیں

بہت پیچیدہ ہیں چاہت کے اندازکہ اب دل داریاں بھی کھل رہی ہیں

ترازو ہیں خرد مندوں کے دل میںوہی باتیں جو بے-اٹکل رہی ہیں

ضیاؔ ان ساعتوں میں عمر گزریکھلی آنکھوں سے جو اوجھل رہی ہیں

— ضیاء جالندھری