غزل 14 اشعار

تری نگہ سے اسے بھی گماں ہوا کہ میں ہوں

Teri nigah se ise bhi guman hua ki main hun

تری نگہ سے اسے بھی گماں ہوا کہ میں ہوںوگرنہ دل تو مرا مانتا نہ تھا کہ میں ہوں

عجیب لمحہ وہ دیدار حسن یار کا تھااس ایک پل کی تجلی میں یہ کھلا کہ میں ہوں

نہ جانے بے خبری کے وہ کس مقام پہ تھانظر اٹھاتا تو ہر گل پکارتا کہ میں ہوں

ترے جمال کی کچھ روشنی سی پڑتی ہےبتا رہا ہے مجھے رنگ آئنا کہ میں ہوں

جسے بھلا کے یہ دل مطمئن تھا مدت سےکل اس کے ذکر پہ اک عہد بول اٹھا کہ میں ہوں

پر زمانہ تو پرواز نور سے بھی ہے تیزکہاں ہے کون تھا جس نے ابھی کہا کہ میں ہوں

کہاں پہ سرحد نا بود و بود ملتی ہےثبوت ہو کہ نہ ہو اعتبار کیا کہ میں ہوں

حیات خود ہے دہان نہنگ لا یعنیجو ہے عدم کا مسافر ہے میں چلا کہ میں ہوں

نہ رفتگاں ہیں نہ اب یاد رفتگاں باقیمیں کیا ہوں جز رم یک موجۂ فنا کہ میں ہوں

مجھ ایسے ذروں کا ہونا نہ ہونا ایک سا ہےبگولے ان سے اٹھے تو پتہ چلا کہ میں ہوں

کھلا پڑا ہے سر راہ بے حس و حرکتجو ہاتھ کل تک اٹھا چیختا رہا کہ میں ہوں

ابھی طریق تحمل نہیں مزاجوں میںابھی فقیہوں میں ہنگامہ ہے بپا کہ میں ہوں

کہیں کہیں ابھی توقیر لفظ باقی ہےسخن سنائی دیا حرف درد کا کہ میں ہوں

عجیب عالم ہو تھا ضیاؔ جب آخر شبکسی کو دل نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں ہوں

— ضیاء جالندھری