غزل 15 اشعار

منجمد ہونٹوں پہ ہے یخ کی طرح حرف جنوں

Munjamid honton pe hai yakh ki tarah harf-e-junun

منجمد ہونٹوں پہ ہے یخ کی طرح حرف جنوںسر کسی سیل زدہ شاخ کے مانند نگوں

کہاں سرما نفس الفاظ کہاں سوز دروںلالۂ دشت زمستاں ہے میں جو بات کہوں

میں کہاں پہنچا کہ ہر بت جسے پوجا اب تکہے شکستہ سر خاک اور میں شکستہ تو ہوں

رحم کر خواب تمنا پہ نگاہ نگراںٹوٹ کر چاروں طرف بکھرے پڑے ہیں افسوں

خشت کوبی میں کسے فرصت خواب خوباںزندہ رہنے کے تقاضوں نے کیا زیست کا خوں

کتنے اقدار کے ایوان زمیں بوس ہوئےآگہی راکھ کا اک ڈھیر ہوئی جاتی ہے کیوں

کتنے ارمان زمستاں زدہ شاخوں کی طرحہاتھ پھیلائے ہوئے تکتے ہیں سوئے گردوں

شب عجب سوختہ سامان مسافر آئےجسم آغشتہ بہ خوں چہرے ملول و محزوں

بولے اے اجنبی اے سادہ تمنا ہمیں دیکھہم بھی رکھتے تھے کبھی آرزوئیں گونا گوں

اور پھر ہم پہ کھلا وقت کی رفتار کا رازاب کوئی رنگ کوئی روپ نہیں وجہ سکوں

بجھ گئیں آرزوئیں شام کے بادل کی طرحگلشن‌ و شہر ہوئے برف کی تہہ میں مدفوں

جا بہ جا حوصلے تاراج ہوئے دل ٹوٹےپے بہ پے ہم نے سہے سرد ہوا کے شب خوں

زندگی محض شکستوں کا اک انبار گراںاب ان آنکھوں میں نہیں کوئی طلسم‌ فیکوں

ہم تو اے اجنبی مہمان ہیں کوئی دم کےدم بہ دم موج فنا کہتی ہے میں ہوں میں ہوں

صبح دم سوختہ سامان مسافر بھی گئےپھر وہی ہم وہی تنہائی وہی حال زبوں

— ضیاء جالندھری