غزل 5 اشعار

شاداب شاخ درد کی ہر پور کیوں نہیں

Shadab shakh-e-dard ki har por kyun nahin

شاداب شاخ درد کی ہر پور کیوں نہیںہر برگ اک زباں ہے تو پھر شور کیوں نہیں

وارستۂ‌ عذاب تماشا ہے چشم برگاے آگہی نگاہ مری کور کیوں نہیں

دست سوال برگ ہے شبنم سے کیوں تہیجو بادلوں کو لوٹ لے وہ زور کیوں نہیں

زیست ایک برگ تشنہ ہے وہ ابر کیا ہوئےاب ان کی کوئی راہ مری اور کیوں نہیں

یہ شعلہ ایک برگ خزاں ہے کہ برگ گلآنکھوں میں تیری شام ہے کیوں بھور کیوں نہیں

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں