نظم 15 اشعار

ٹائپسٹ

Typist

دن ڈھلا جاتا ہے ڈھل جائے گا کھو جائے گاریگ اٹی درز سے در آئی ہے اک زرد کرن

دیکھ کر میز کو دیوار کو الماری کوفائلوں، کاغذوں، بکھری ہوئی تحریروں کو

پھر اسی درز سے گھبرا کے نکل جائے گیاور باہر وہ بھلی دھوپ، سنہری کرنیں

جو کبھی ابر کے آغوش میں چھپ جاتی ہیںکبھی پیڑوں کے خنک سایوں میں لہرائی ہیں

پاس ہی پیڑ پہ ہدہد کی کھٹا کھٹ کھٹ کھٹاور نڈھال انگلیاں کہتی ہیں تھکا تھک تھک تھک

محض ابجد کی بدلتی ہوئی بے حس ترتیبلفظ ہی لفظ پہ احساس نہ ارماں کوئی

اور ارمان وہ بھٹکے ہوئے راہی جن کےساتھ ساتھ آتے ہوئے بھوت کی صورت خدشے

سرد ہاتھوں سے کبھی پاؤں جکڑ لیتے ہیںاور کبھی آہنی دیوار اٹھا دیتے ہیں

میں نے دیکھا ہے کہیں گھر کے جب آئے بادلچیخ اٹھے لوگ کہ اب کھیتیاں لہرائیں گی

میں نے دیکھے ہیں تمناؤں کے بنجر انجامکس توقع پہ سنورنے لگی پھر سوچتی شام

کس کی آنکھوں کی چمک راستہ دکھلاتی ہےپھر وہی قمقمۂ شب کی طرح خندۂ لب

کہے جاتا ہے: چلی آؤ، چلی بھی آؤلیکن اس خندہ کے اس پار وہی پل کی طلب

''یوں تو میں صرف تمہارا ہوں مگر کیا کیجےبعض مجبوریاں....'' مجبوریاں! میں جانتی ہوں

جانتی ہوں کہ گئے وقت کو کس نے روکاوقت آتا ہے گزر جاتا ہے بس دور ہی دور

ایک دن وقت بڑے چین سے سو جائے گادن ڈھلا جاتا ہے ڈھل جائے گا کھو جائے گا

— ضیاء جالندھری