نظم 13 اشعار

ہرجائی

Harjai

شام لوٹ آئی گھنی تاریکیاب نہ آئے گی خبر راہی کی

جاگی تاروں کی ہر اک راہ گزاردور اڑتا نظر آتا ہے غبار

آپ کی باتیں ہیں کتنی پھیکیکس کی راہ تکتی ہو کون آنے لگا

کیا تمہیں بھی کوئی بہکانے لگاان کی آنکھیں ہیں کہ خوابوں کا فسوں

ان کی باتیں ہیں کہ الفت کا جنوںآپ کو کاہے کا غم کھانے لگا

نیم شب نیند کے ماتے تارےراہ تک تک کے کسی کی ہارے

کس قدر سچی تھیں ان کی باتیںان کے ساتھ آئی گئی تھیں راتیں

آپ کے ہاتھ ہیں یا انگارےمیں بھی سمجھی تھی اسے دل کے قریب

میری معصوم بہن میری رقیبکیا کہا آپا نہیں چپ رہیے

اچھا کہہ ڈالیے کہیے کہیےآپ کی آنکھیں ہیں کس قدر مہیب

صبح رک رک کے ستارے ڈوبےغم نہ کھاؤ کہ جو ہارے ڈوبے

آپا جی بھر کے مجھے رونے دیںغم کی موجوں میں فنا ہونے دیں

کون ساحل کے سہارے ڈوبے

— ضیاء جالندھری