نظم 11 اشعار

شہر آشوب

Shahr-e-ashob

وہی صدا جو مرے خوں میں سرسراتی تھیوہ سایہ سایہ ہے اب ہر کسی کی آنکھوں میں

یہ سرسراہٹیں سانپوں کی سیٹیوں کی طرحسیاہیوں کے سمندر کی تہ سے موج بہ موج

ہماری بکھری صفوں کی طرف لپکتی ہیںبدن ہیں برف، رگیں رہ گزار ریگ رواں

کئی تو سہم کے چپ ہو گئے ہیں صورت سنگجو بچ گئے ہیں وہ اک دوسرے کی گردن پر

جھپٹ پڑے ہیں مثال سگان آوارہہوا گزرتی ہے سنسان سسکیوں کی طرح

صدائے درد جو میرے لہو میں لرزاں تھیجھلک رہی ہے وہ اب بے شمار آنکھوں میں

لبوں پہ سوکھ گئی حرف شوق کی شبنمکسی میں طاقت گفتار اگر کہیں ہے بھی

تو لفظ آتے ہیں ہونٹوں پہ ہچکیوں کی طرحتراشیے تو کئی پتھروں کے سینوں میں

شجر کی شاخوں کے مانند نقش پھیلے ہیںپر ان کے ریشوں میں ذوق نمو نہیں ملتا

کوئی نفیر کہ جس کی نوائے ہوش نوازدلوں سے دور کرے سرسراہٹوں کا طلسم

کوئی امید کا پیغام کوئی پیار کا اسموہ خواب پرورش جاں کہ جس پہ صدقے ہوں جسم

— ضیاء جالندھری