نظم 136 اشعار

ہم

Hum

1بچھی ہوئی ہے بساط کب سے

زمانہ شاطر ہے اور ہماس بساط کے زشت و خوب خانوں میں

دست نادیدہ کے اشاروں پہ چل رہے ہیںبچھی ہوئی ہے بساط ازل سے

بچھی ہوئی ہے بساط جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا ہےبساط ایسا خلا ہے جو وسعت تصور سے ماورا ہے

کرشمۂ کائنات کیا ہےبساط پر آتے جاتے مہروں کا سلسلہ ہے

بساط ساکت ہے وقت مطلقبساط بے جنبش اور بے حس ہے

اپنے مہروں سے لا تعلق ہےاس کو اس سے غرض نہیں ہے

کہ کون جیتا ہےاور کس نے شکست کھائی

وجود حادث وجود مہرےبساط ساکت کی وسعتوں میں

زمین اہل زمین افلاک اہل افلاکاپنی اپنی معینہ ساعتوں میں ایسے گزر رہے ہیں

کہ جیسے آنکھوں سے خواب گزریںبساط پر جو بھی ہے

وہ ہونے کی مہلتوں میں اسیرپیہم بدل رہا ہے

وجود وہ حدت رواں ہےجو نت نئی ہیئتوں میں باقی ہے

اور اس کو فنا نہیںجہاں پہاڑوں کے آسماں بوس سلسلے ہیں

وہاں کبھی بحر موجزن تھےجہاں بیاباں میں ریت اڑتی ہے

باد مسموم گونجتی ہےوہاں کبھی سبزہ زار و گلگشت کا سماں تھا

بلند و بالا حقیر و ہیچاس شکست و تعمیر کے تسلسل میں بہہ رہے ہیں

شکست و تعمیر کے تسلسل میں تو ہے میں ہوںہم ایسے مہرے

جنہیں ارادے دیے گئے ہیںیہ جن کی توفیق پر حدیں ہیں

جنہیں تمنا کے رنگ دکھلا دیے گئے ہیںمگر وسیلوں پر قدغنیں ہیں

جنہیں محبت کے ڈھنگ سکھلا دیے گئے ہیںپہ دست و پا میں سلاسل نو بنو

تو گردن میں طوق پہنا دیے گئے ہیںجو ہے جو اب تک ہوا ہے جو ہو رہا ہے

اس سے کسے مفر ہےکوئی جو چاہے

کہ عہد رفتہ سے ایک پل پھر سے لوٹ آئےکہا ہوا لفظ ان کہا ہو سکے

تو اس آرزو کا حاصل وہ جانتا ہےبہت سہی اختیار و امکاں

برگ و خس کی تاب و مجال کیا ہےنموئے غنچہ میں اس کا اپنا کمال کیا ہے

تری نگاہوں میں تیرا غم کوہ سے گراں تر ہےتو سمجھتا ہے

تیرے سینے کے سرخ لاوے سےشہر و قریہ پگھل رہے ہیں

خزاں زمستاں تری اداسی کے آئنے ہیںتو مشتعل ہو تو زلزلوں سے زمین کانپے

تجھے گماں ہےکہ گل کھلے ہیں ترے تبسم کی پیروی میں

یہ پھول کو اختیار کب تھاکہ کون سی شاخ پر کھلے

کون کنج میں مسکرائےاور کن فضاؤں میں خوشبوئیں بکھیرے

نحیف شعلہ جمال کونپلجو دست نازک کی نرم پوروں سے دھیرے دھیرے

دریچۂ شاخ کھول کرصبح کی سپیدی میں جھانکتی ہے

یہ سوچتی ہےکہ باغ سارا اسی کے دم سے مہک رہا ہے

اسی کے پرتو سے گوشہ گوشہ دمک رہا ہےاسی کے دیدار میں مگن

خوشبوؤں سے بوجھل ہواؤں میںشوخ تتلیاں رقص کر رہی ہیں

وہ بے خبر ہےکہ شاطر وقت کی نظر میں

کوئی اکائیشجر حجر ہو کہ ذی نفس ہو

نظام کل سے الگ نہیں ہےوہ یہ نہیں جانتی کہ ہستی کے کارخانے میں

اس کا ہونا نہ ہونا بے نام حادثہ ہےاور اس کے حصے کا کل اثاثہ

وہ چند لمحے وہ چند سانسیں ہیںجن میں وہ خواب دیکھتی ہے

سلیقۂ ذات سے چمن کو سنوارنے کابہار جاں کو نکھارنے کا

۲بجا کہ ناپائیدار ہے یہ وجود میرا

میں غیر فانی حیات کے سلسلے میںاک بیچ کی کڑی ہوں

رہین گردش بھی مرکز کائنات بھی ہوںجو میں نے دیکھا ہے وہ مرے خوں میں رچ گیا ہے

جو میں نے سوچا ہے مجھ میں زندہ ہےاور جو کچھ سنا ہے مجھ میں سما گیا ہے

ہوا کی صورت ہر ایک احساسمیری سانسوں میں جی رہا ہے

ہر ایک منظر مرے تصور میں بس گیا ہےمیں ذات محدود اپنی پہنائیوں میں

اک کائنات بھی ہوںمری رگوں میں وہ جوشش جاوداں رواں ہے

جو شاخ میں پھول کی نمو ہےجو بحر میں موج کی تڑپ ہے

پر کبوتر میں تاب پرواز ہےستاروں میں روشنی ہے

میں اپنے ہونے کے سب حوالوں میں رونما ہوںمیں جا بجا صورت صبا ہوں

غزال خوش چشم کی کلیوں میں کھیلتا ہوںہمکتے بچے کی مسکراہٹ ہوں

پیر شب خیز کی دعا ہوںمیں مہر میں ماہتاب میں ہوں

یہ کیسی چاہت ہے جس سے میںایک مستقل اضطراب میں ہوں

وہ کون سی منزل طلب تھیکہ رانجھا رانجھا پکارتی ہیر

آپ ہی رانجھا ہو گئی تھیفلک سے انوار

کوہ سے چشمےشاخ سے پھول پھوٹتے ہیں

مگر ہر اک پھول میں نمی بھی ہے روشنی بھیزباں میں الفاظ

آنکھ میں دیددل میں احساس رکھ دیے گئے ہیں

پہ لفظ احساس دید اک دوسرے کا پیوند ہو گئے ہیںنمو و تخلیق کے عمل بار بار دہرائے جا رہے ہیں

جمال ارض و سما کی تکمیل ہو رہی ہےمحبت اعجاز سرمدی ہے

تمہاری آنکھوں کی مسکراہٹ میںمیری چاہت کی روشنی ہے

یوں ہی شگوفوں کے پاس بیٹھی رہوشعاعوں کو عارض و لب سے کھیلنے دو

ہوا کے ہاتھوں کو اپنے گیسو بکھیرنے دوبہار کی ساری خوشبوئیں

اپنے بازوؤں میں سمیٹ لومیرے چشم و دل کو یقین دلاؤ

کہ تم فقط خواب ہی نہیں ہوگزرتے بادل کا کوئی عکس رواں نہیں ہو

تم اک حقیقت ہو محض وہم و گماں نہیں ہومرے قریب آؤ اور مری ذات کو مٹا دو

مجھے تم اپنے جمال کی ضو میں جذب کر لووصال میں فرد کی فنا ہے

وصال میں فرد کی بقا ہےوصال میں فرد کی بقا ہے

بہار کی دید عارضی ہےبہار تجرید دائمی ہے

وداع کے وقت آنسوؤں میںوہ سارے منظر جھلک رہے ہیں

جو شاخ جاں پر گلوں کی صورت کھلے ہوئے تھےوہ سارے امکاں جھلک رہے ہیں

جو کرچی کرچی بکھر گئے ہیںبکھرنے والوں کو اپنے مرکز کی آرزو ہے

نہیں مجھے اس طرح نہ دیکھوکہ جیسے نظروں میں روح تک امڈی آ رہی ہو

یہ ہاتھ کچھ دیر اور رہنے دو میرے ہاتھوں میںکچھ نہ بولو

کہ میں یہ نایاب لمحے آنکھوں میں جذب کر لوںیہ ثانیے روح میں چھپا لوں

ہر ایک لمحہ اک ارمغاں ہےتمہاری چاہت کا ارمغاں ہے

یہ ثانیے ایسے پھول ہیںجو کہ کھلتے رہتے ہیں دل ہی دل میں

شگفتہ رہتے ہیں رہتے دم تکیہ چند لمحے کسی کسی کے نصیب میں ہیں

وگرنہ عمریںغموں کے کانٹے نکالنے میں گزر گئی ہیں

۳وہ شام ہوٹل میں اس طرح آئی

جیسے دشمن کی فوج اترےجگہ جگہ جست اور کانسی کے چہرے

جھم جھم کھنک رہے تھےتمام ہوٹل جگر جگر جگمگا رہا تھا

میں کنج تنہائی میں تحیر سے دیکھتا تھاکہ کیسے خوش باش ہیں جنہیں یہ خبر نہیں ہے

کہ ان کی بنیاد اکھڑ چکی ہےہوائیں مسموم ہو چکی ہیں

شجر پھلوں سے لدے ہیں لیکنجڑوں کا زہر ان پھلوں کے ریشوں تک آ گیا ہے

جو حال اب ہے کبھی نہیں تھاحیات خوار و زبوں تو تھی لیکن اتنی خوار و زبوں نہیں تھی

وہ دیر سے انتظار گہ میںہر آنے والے کو نظروں نظروں میں ناپتی تھی

لباس کی شوخی و جسارتسنگھار کی جدت و مہارت کے باوجود

اس کا گوشۂ چشم عمر کی چغلی کھا رہا تھانگاہ نو وارد اجنبی پر پڑی تو اس طرح مسکرا دی

کہ جیسے اس کی ہی منتظر تھیاٹھی قریب آئی اور بولی

میں ایک مدت سے خدمت خلق کر رہی ہوںدکھے دلوں کا علاج کرتی ہوں

رنگ اور روشنی کے شہروں میںشام تنہائی کی دل افسردگی سے واقف ہوں

آپ اکیلے ہیں تو کوئی انتظام کر دوںیہاں سے میں دور دور ملکوں کو

ہر طبیعت کے گاہکوں کی پسند کا مال بھیجتی ہوںوفا محبت پرانی باتیں ہیں اب انہیں کون پوچھتا ہے

بڑے بڑے اونچے اونچے لوگوں سے رات دن میرا واسطہ ہےیہ صاحبان وقار و نخوت

خریدنا اور بیچنا خوب جانتے ہیںیہ دام دیتے ہیں اور راحت خریدتے ہیں

بجا ہے یہ بھی کہ بے بسوں کی انا و عزت خریدتے ہیںمگر جب آتے ہیں بیچنے پر

تو بے تکلف ضمیر تک اپنا بیچ دیتے ہیںجاہ و ثروت کی منڈیوں میں

میں کہہ رہی تھی کہ آپ چاہیں توآج کی رات کا کوئی انتظام کر دوں

وہ شام کے وقت خوں میں لت پتسڑک کے کنارے پڑا ہوا تھا

گزرنے والوں سے کہہ رہا تھاہمیں ہمارے محافظوں سے

نجات کا راستہ بتاؤوہ خواہش اقتدار و دولت میں

ہم کو نیلام کر رہے ہیںاخوت و اتحاد کا درد دینے والے

خود اپنے بچوں کے خوں سےحرص و ہوس کی شمعیں جلا رہے ہیں

ہماری اقدارآج متروک فیشنوں کے لباس کی طرح

ان کی نظروں سے گر چکی ہیںاب ان کی اولاد ان کی ریشہ دوانیوں سے پناہ

تازہ بتازہ نشوں میں ڈھونڈتی ہےانہی کی شہ پا کے نسل نو

اپنی پیاس اک دوسرے کے خوں سے بجھا رہی ہےیہ سنگ دل جشن مرگ انبوہ بے گناہاں منا رہے ہیں

کوئی ہمیں ان نجیب صورتحریص بے مہر کرگوں سے

نجات کا راستہ بتاؤیہ نغمۂ کائنات کی بے سری صدائیں ہیں

کوئی ان سے نجات کا راستہ بتاؤ۴

ہم اپنے خوابوں میں جی رہے ہیںہم اپنے صبح و شام سے تنگ آ کے

خواب بنتے ہیں اور خوابوں میں جی رہے ہیںبساط ساکت سے کوئی شکوہ

نہ شاطر وقت سے گلہ ہےہمیں شکایت ہے آدمی سے

کہ آدمی آدمی کا دوزخ بنا ہوا ہےعجب تضادات کا مرقع ہے آدمی بھی

وہ اہرمن بھی ہے اور یزداں جمال بھی ہےصداقت و حسن کا طلب گار بھی وہی ہے

بہیمیت اور وحشت و جبر کا پرستار بھی وہی ہےزمین پہ قابیل کے قبیلے کی رسم بیداد اوج پر ہے

مگر ہمارا عذاب اس سے بھی تلخ تر ہےکہ ہم جو ہابیل کے حواری تھے

عہد ہابیل میں بھی زنجیر ہی رہے ہیںشباہتوں کے فریب خوردہ تھے یہ نہ جانا

نقاب پوشوں میں کون کیا ہےہمیں تو غم تھا کہ نشۂ اقتدار

قابیل ہو کہ ہابیلجس کسی کو چڑھا

وہ انسانیت کو تاراج کر گیا ہےہمارے خوابوں سے ڈر رہے ہیں

وہ ڈر رہے ہیں کہ خواب الفاظ میں ڈھلے تودروغ کے پردے چاک ہوں گے

اور ان کے چہروں کا غازہ اتراتو آئنے بھی عذاب ہوں گے

ہم ایسے مہرےجنہیں ارادے دیے گئے ہیں

یہ جن کی توفیق پر حدیں ہیںہمیں شکستیں ہوئیں مگر ہر شکست مہمیز ہو گئی ہے

ہمارے ساتھی گرے پہ رفتار اور کچھ تیز ہو گئی ہےیہاں کی سنگین بے حسی میں

ہماری کوشش کا حال یہ ہےکہ جس طرح کوئی تیتری

اک خزاں زدہ باغ بے نمو میںبھری بہاروں کی جستجو میں

تبسم گل کی آرزو میںشجر شجر شاخ شاخ بیتاب پھر رہی ہو

ہمارے ہوتے بہار آئے نہ آئے لیکنہمیں یہ تسکین ہے کہ ہم نے

حیات ناپائیدار کی ایک ایک ساعتچمن کی ہیئت سنوارنے میں گزار دی ہے

فضائے ہستی نکھارنے میں گزار دی ہے

— ضیاء جالندھری