غزل 8 اشعار

جب انہی کو نہ سنا پائے غم جاں اپنا

Jab unhi ko na suna pae gham-e-jaan apna

جب انہی کو نہ سنا پائے غم جاں اپناچپ لگی ایسی کہ خود ہو گئے زنداں اپنا

نارسائی کا بیاباں ہے کہ عرفاں اپنااس جگہ اہرمن اپنا ہے نہ یزداں اپنا

دم کی مہلت میں ہے تسخیر مہ و مہر کی دھنسانس اک سلسلۂ خواب درخشاں اپنا

طلب اس کی ہے کہ جو سرحد امکاں میں نہیںمیری ہر راہ میں حائل ہے بیاباں اپنا

کیسی دوری اسی شعلے کی ہے ضو میرا جمالجس سے تابندہ رہا دیدۂ گریاں اپنا

ارمغاں ہیں تری چاہت کے شگفتہ لمحےبے خودی اپنی شب اپنی مہ تاباں اپنا

اس طرح عکس پڑا تیرے شفق ہونٹوں کاصبح گلزار ہوا سینۂ ویراں اپنا

ایسی گھڑیاں کئی مجھ ایسوں پہ آئی ہوں گیوقت نے جن سے سجا رکھا ہے ایواں اپنا

— ضیاء جالندھری