غزل 7 اشعار

کچھ اور پلا نشاط کی مے

Kuchh aur pila nashat ki mai

کچھ اور پلا نشاط کی مےیہ لذت‌ جسم ہے عجب شے

اب بھی وہی گیت ہے وہی لےہم وہ نہیں انجمن وہی ہے

تخیل میں ہر طلب ہے تحصیلجو بات کہیں نہیں یہاں ہے

کرتے ترا انتظار ابد تکلیکن ترا اعتبار تا کے

مجھ کو تو نہ راس آئی دوریتجھ میں بھی وہ بات اب نہیں ہے

دیوانگیاں کبھی مٹی ہیںہر چند رہا زمانہ درپئے

سمجھائیں ضیاؔ مگر انہیں کیادل ہی سے نہ بات ہو سکی طے

— ضیاء جالندھری