غزل 4 اشعار

راستے تیرہ سہی سینے تو بے نور نہیں

Raste tera sahi sine to be-nur nahin

راستے تیرہ سہی سینے تو بے نور نہیںآنکھ جو دیکھ رہی ہے ہمیں منظور نہیں

پیڑ پت جھڑ میں لہو روتے ہیں افسردہ نہ ہوشاخ میں نم ہے تو پھر موسم گل دور نہیں

مشکلیں دل میں نئی شمعیں جلا دیتی ہیںغم سے بجھ جانا تو درویشوں کا دستور نہیں

جانے کیا غم تھا کہ چپ اوڑھ کے وہ بیٹھ رہاوہ کم آمیز تو ہے یارو پہ مغرور نہیں

— ضیاء جالندھری