غزل 7 اشعار

کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے

Kahan ka sabr sau sau bar diwanon ke dil tute

کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹےشکست دل کے خدشے ہی سے نادانوں کے دل ٹوٹے

گرے ہیں ٹوٹ کر کچھ آئنے شاخوں کی پلکوں سےیہ کس کی آہ تھی کیوں شبنمستانوں کے دل ٹوٹے

اس آرائش سے تو کچھ اور ابھری ان کی ویرانیببولوں پر بہار آئی تو ویرانوں کے دل ٹوٹے

وہ محرومی کا جوش خواب پرور اب کہاں باقیبر آئیں اتنی امیدیں کہ ارمانوں کے دل ٹوٹے

انہیں اپنے گداز دل سے اندازہ تھا اوروں کاجب انسانوں کے دل دیکھے تو انسانوں کے دل ٹوٹے

قفس سے حسن گل کے قدرداں اب تک نہیں پلٹےشگوفوں کے تبسم سے گلستانوں کے دل ٹوٹے

ضیاؔ اپنی تباہی پر انہیں بھی ناز تھے کیا کیاہمیں دیکھا تو صحراؤں بیابانوں کے دل ٹوٹے

— ضیاء جالندھری