نظم 14 اشعار

کہی ان کہی

Kahi an-kahi

لفظ تصویریں بناتے ترے ہونٹوں سے اٹھے تھے لیکندیکھتے دیکھتے تحلیل ہوئے

ان کی حدت مری رگ رگ میں رواں تھی سو رہیپھر ترے ہاتھوں کا لمس ایسے ملائم الفاظ

تیری آنکھوں کی چمک روشن و مبہم الفاظاور وہ لفظ جو لفظوں میں نہاں رہتے ہیں

اور وہ لفظ کہ اظہار کے محتاج نہیںپھر بھی ہیں ان کے لیے گوش بر آواز سبھی

ان کے ہم راز سبھیسب سنے میں نے مگر آخر کار

سبھی تحلیل ہوئےلفظ پھر روپ بدل کر مرے دل میں لرزے

شوق اظہار میں بے تاب ہوئےلفظ اظہار میں صورت ہی بدل لیتے ہیں

جانے کیا بات تھی کیا سمجھے لوگہر کوئی اپنے ہی لفظوں میں مگن

ہر کوئی اپنے ہی رس رنگ میں گمہر کوئی اپنے ہی آہنگ میں گم

اور پھر لفظ کہ رہتے ہیں گریزاں خود سےکون سنتا ہے انہیں؟ کون سمجھتا ہے انہیں؟

جانے کیا بات تھی کیا تو نے سنیاپنے اظہار پہ نادم تھا پشیمان تھا میں

اپنی ہی بات پہ حیران تھا میںپھر مری بات بھی تحلیل ہوئی

جیسے تو بھول گئی جیسے جہاں بھول گیااور اب میں ہوں وہ اک لفظ غریب

کوئی پوچھے بھی تو چپ رہتا ہوں

— ضیاء جالندھری