نظم 15 اشعار

صبح سے شام تک

Subh se sham tak

ایک شوخی بھری دوشیزۂ بلور جمالجس کے ہونٹوں پہ ہے کلیوں کے تبسم کا نکھار

سیمگوں رخ سے اٹھائے ہوئے شب رنگ نقابتیز رفتار اڑاتی ہوئی کہرے کا غبار

افق شرق سے اٹھلاتی ہوئی آتی ہےمست آنکھوں سے برستا ہے صبوحی کا خمار

پھول سے جسم پہ ہے شبنمی زرتار لباسکروٹیں لیتا ہے دل میں اسے چھونے کا خیال

آنکھیں ملتے ہوئے جاگ اٹھتے ہیں لاکھوں احساسیہ حسینہ مجھے اکساتی ہوئی آتی ہے

نغمے گونج اٹھے ہیں پازیب کی جھنکار کے ساتھنقرئی انگلیاں آفاق پہ لہراتی ہیں

جسم کے لوچ میں سیماب کی موجیں ہیں رواںلہریں باہوں کی تھرکتی ہوئی بل کھاتی ہیں

ناچتے ناچتے بڑھتی ہے مگر رکتی ہوئیدل کو برماتا ہے اس شوخ کا بھرپور شباب

اس کی گرمی مری سانسوں سے کوئی دور نہیںفرش مخمل پہ بچھی جاتی ہیں اس کی نظریں

نیلے آنچل میں دمکتی ہوئی شفاف جبیںاٹھی مشرق سے تو مغرب کی طرف جھکتی ہوئی

مضمحل چہرے کی زردی میں ہے رخصت کا پیامسرمگیں آنکھوں پہ جھکنے کو ہیں لمبی پلکیں

قرمزی دھاریاں چھن چھن کے سیہ زلفوں سےجذب ہو جاتی ہیں دہکے ہوئے رخساروں میں

زلفیں بکھری ہوئی شانوں سے ڈھلک آئی ہیںسر جھکائے ہوئے منہ پھیر کے خاموشی سے

دور مغرب کے دھندلکوں میں چلی جاتی ہےمیرے دل میں ہیں سلگتی ہوئی یادیں اس کی

انہی یادوں سے مری روح جلی جاتی ہےکتنی تاریکیاں چپ چاپ سرک آئی ہیں

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں