نظم 24 اشعار

تسلسل

Tasalsul

بزم خواہش کے نو واردوتم نہیں جانتے

کیسے آہستہ آہستہ جسموں کے اندر رگوں تکپہنچتے ہیں پت جھڑ کے ہاتھ

کیسے سرما کی شامڈھانپ لیتی ہے کہرے کی چادر میں منظر تمام

کیسے گزری ہوئی زندگیدستکیں دیتی رہتی ہے دل پر

مگر جب پکاریں تو رم خوردہ رویا کے ماننددوری کی سرحد کے اس پار آتی نہیں

کیسے بچھڑے ہوئے دوستوں کا خیالدھندلی آنکھوں میں رہتا ہے روکے ہوئے آنسوؤں کی مثال

تم جہاں ہو وہاں پھول رت ہے ابھیریشمی خوشبوؤں میں بسی چاہتیں ہیں وہاں

اور روشن ہیں آنکھوں میں دنیا بدلنے کے خوابتم ہمارے شب و روز کے آئنے ہو

وہ چہرے تمہارے خد و خال سے جھانکتے ہیںجو مدت ہوئی ہم سے ایک ایک کر کے جدا ہو گئے

زمانہ ہواسر زمین تمنا پہ فصل گل آنے کو تھی

ہم دم صبح کلیاں چٹکنے کی آواز کے منتظر تھےکہ اک سرسراہٹ ہوئی

زیر شاخ گل افعی کا سایہ سا ابھراتم اے طائران نخوردہ گزند

اس سے واقف نہیںکیسے زخموں سے بے حال تھی زندگی

کیسے آتش فشاں پھٹ پڑےکس طرح ان کے لاوے ہیں انسانیت بہہ گئی

وہ جو رخصت ہوئےجو اندھیروں میں حق کے علم لے کے نکلے تھے

زنداں سے ان کے سلاسل کی آواز تو ہم تک آئی تھیلیکن پلٹ کر وہ آئے نہیں

ہم کہاں سے کہاں آ گئے ہیں مگراب بھی دستور دنیا وہی ہے کہ تھا

جنگ کا جھوٹ کا جبر کا جور کااب بھی عالم میں چرچا وہی ہے کہ تھا

اے جہاں کو بدلنے کے خواہاں جوانو سنووقت کے چاک پر گیلی مٹی کے مانند ہے آدمی

ہم بدلتے ہیں دنیا بدلتی نہیںہم بدلتے ہیں لیکن یہ دنیا جو ہر دم نئی ہے بدلتی نہیں

ہم کہ اپنی شکستوں کی آواز ہیںاپنے خوابوں پہ نادم نہیں

اس سے پہلے کہ چپ چاپ آ لے تمہیںوقت کا راہزن

جو تمہارے لہو میں تمہارے تنفس میں روپوش ہےدونوں ہاتھوں سے اپنی مہکتی ہوئی چاہتیں تھام لو

دل کی دولت کو اک دوسرے پر نچھاور کرواور آنکھوں میں خوابوں کو روشن رکھو

— ضیاء جالندھری