غزل 9 اشعار

کیسے دکھ کتنی چاہ سے دیکھا

Kaise dukh kitni chah se dekha

کیسے دکھ کتنی چاہ سے دیکھاتجھے کس کس نگاہ سے دیکھا

شدت لا زوال سے چاہاحسرت بے پناہ سے دیکھا

اتنا سوچا تجھے کہ دنیا کوہم نے تیری نگاہ سے دیکھا

شوق کیا غیر معتبر ٹھہراتو نے جب اشتباہ سے دیکھا

اپنی تاریک زندگی میں تجھےخوب تر مہر و ماہ سے دیکھا

اہل دل پر تری کشش کا اثراپنے حال تباہ سے دیکھا

دشمنوں سے جو غم نہ دیکھا تھاکوشش خیر خواہ سے دیکھا

غم گراں تر ہے کوہ سے جاناہم سبک تر ہیں کاہ سے دیکھا

دائمی دوریوں کا صدمہ ضیاؔسرسری رسم و راہ سے دیکھا

— ضیاء جالندھری