غزل 7 اشعار

تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے

Tumhaari chahat ki chandni se har ek shab-e-gham sanwar gai hai

تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہےسنہری پوروں سے خواب ریزے سمیٹتی ہر سحر گئی ہے

مہکتے جھونکے کے حرف تسکیں میں جانی پہچانی لرزشیں تھیںتمہاری سانسوں کی آنچ کتنی قریب آ کر گزر گئی ہے

اب اس کا چارہ ہی کیا کہ اپنی طلب ہی لا انتہا تھی ورنہوہ آنکھ جب بھی اٹھی ہے دامان درد پھولوں سے بھر گئی ہے

نہ تھا نہ ہوگا کبھی میسر سکون جو تیرے قرب میں ہےیہ وقت کی جھیل جس میں ہر لہر جیسے تھک کر ٹھہر گئی ہے

یہ برف زار خیال جس میں نہ صوت گل ہے نہ عکس نغمہتری توجہ سے آتش شوق اسی کو گل زار کر گئی ہے

یہ کون دیوانے ریگ صحرا کو موجۂ خوں سے سینچتے ہیںکوئی کہو اس جنوں کی اس نو بہار تک بھی خبر گئی ہے

ضیاؔ دلوں میں غبار کیا کیا تھے روئے جی بھر کے جب ملے وہوہ ابر برسا ہے اب کے ساون کہ پتی پتی نکھر گئی ہے

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں