غزل 10 اشعار

کتنی دیر اور ہے یہ بزم طربناک نہ کہہ

Kitni der aur hai ye bazm-e-tarab-nak na kah

کتنی دیر اور ہے یہ بزم طربناک نہ کہہراس آتی ہے کسے گردش افلاک نہ کہہ

کیوں ٹھہرتا نہیں گلزار میں کوئی موسمکیا کشش رکھتی ہے خوشبوئے‌ تہہ خاک نہ کہہ

دیکھ تو رنگ تمناؤں کی بیتابی کےکل فنا ہے مگر اے صاحب ادراک نہ کہہ

درد کی آنچ ابد تک ہے کسی روپ میں ہوآج کے پھول کو آئندہ کے خاشاک نہ کہہ

لفظ کی ضرب تو ہے صاعقہ‌ و سنگ سے سختدل بہت نرم ہیں نا گفتہ و بے باک نہ کہہ

غم گساروں کو بھی ہے اپنے ہی آلام سے کامدل پہ جو بیتی ہے اے دیدۂ نمناک نہ کہہ

شوق ہی زیست بھی ہے زیست کی آگاہی بھیاس مسیحا نفس آزار کو سفاک نہ کہہ

دل فرہاد جنوں فہم کو ناداں نہ سمجھچشم‌ پرویز تنک ہوش کو چالاک نہ کہہ

خود نمائی تھی کہ تھا محبس پندار کا خوفقیس کے جیب و گریباں رہے کیوں چاک نہ کہہ

بجھ نہ جائیں کہیں دل اہل تمنا کے ضیاؔکیسے شعلوں سے ہے یہ جشن طرب ناک نہ کہہ

— ضیاء جالندھری