نظم 4 اشعار

تیرگی

Tirgi

یہ رات دن کی اداسی یہ بے حسی یہ تھکنحیات ہے کہ تہ برف نا دمیدہ چمن

وہ سبزہ میری نظر سے مرے جہان سے دورمگر کہیں وہ چمن وہ حیات ہے تو سہی

یہ دل میں ایک کسک سی مری زبان سے دورزباں سے دور سہی کوئی بات ہے تو سہی

چمن کو برف کی تہ میں نمو کی خواہش ہےحیات کو تپش آرزو کی خواہش ہے

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں