تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے
کلام: تنویر دانش
تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئےکلیجہ تھام کے کہنے لگے کہ ہائے گئے
ہجوم رقص میں رہتا ہے تیری یادوں کاکہ ہم تو ہجر سے بیکار میں ڈرائے گئے
ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام
مہمان شاعر: تنویر دانش
تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئےکلیجہ تھام کے کہنے لگے کہ ہائے گئے
ہجوم رقص میں رہتا ہے تیری یادوں کاکہ ہم تو ہجر سے بیکار میں ڈرائے گئے
لا الہ ہے بِنا محبت کیہم پہ اتری دعا محبت کی
جانے اپنا شمار کیا ہوگالاج رکھے خدا محبت کی
میں چاہتا ہوں کوئی دشت میں جلاے چراغمگر یہ شرط نہ کچھ بھی جلے سواے چراغ
ہم آخری تھے میاں اب کے قحط سے پہلےہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے کو آے چراغ
میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوںیقین مانو کہ بس تعلق نبھا رہا ہوں
یہ چاند تاروں کی لو کو کس نے بڑھا دیا ہےخبر یہاں پر ہے کیسے پہنچی میں آرہا ہوں