5 اشعار

میں چاہتا ہوں کوئی دشت میں جلاے چراغ

Main chahta hoon kothi dasht mein jalaye charagh

میں چاہتا ہوں کوئی دشت میں جلاے چراغمگر یہ شرط نہ کچھ بھی جلے سواے چراغ

ہم آخری تھے میاں اب کے قحط سے پہلےہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے کو آے چراغ

ابھی ہوا نے تو بدلے ہی تھے ذرا تیورکہ ہم بھی دوڑ پڑے اور کہا کہ ہاے چراغ

شعور اب بھی کہیں راستے میں اونگتا ہےجنوں پہ آئے ہوئے عشق نے جلاے چراغ

یہ سوچتے ہیں کہ کوزہ گری کریں اس سےہماری خاک ہی ٹھہرے گی اب بِناے چراغ

— تنویر دانش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں