ترا نہ ذکر کرے بار بار لوگوں میں
کلام: تنویر دانش
ترا نہ ذکر کرے بار بار لوگوں میںہوا سے کہہ دو ذرا ہوشیار لوگوں میں
طلب نے شعر کی شہرت سے بے نیاز کیامرا شمار نہ کر بے شمار لوگوں میں
ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام
مہمان شاعر: تنویر دانش
ترا نہ ذکر کرے بار بار لوگوں میںہوا سے کہہ دو ذرا ہوشیار لوگوں میں
طلب نے شعر کی شہرت سے بے نیاز کیامرا شمار نہ کر بے شمار لوگوں میں