9 اشعار

میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا

Mere andar hi kahin aaya tha toofan mera

میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا

«میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرادیکھتے دیکھتے دل ہو گیا ویران مرا

مجھے کھو کر تری آنکھیں نہیں پہلے جیسیتیرے نقصان سے بڑھ کر ہے یہ نقصان مرا

یہ سمندر کہ جو اب ملنے ملانے سے گیاگئے وقتوں میں ہوا کرتا تھا مہمان مرا

ایک دنیا میں سمٹ آئے یہ ممکن ہی نہیںاتنی دنیاؤں میں بکھرا ہوا سامان مرا

میں نے اس طرح بھی اس شخص کا رکھا ہے خیالکہیں جاتا ہی نہیں اپنے سوا دھیان مرا

مجھے آغاز میں کچھ ایسے اشارے ملے تھےمیں نہ ہوتا تو کہاں جاتا بیابان مرا

میں نے دو ہاتھوں کا سایہ سا بنایا جن پران درختوں نے اٹھایا نہیں احسان مرا

میری چپ شور بنی شور سے کچھ اور بنیایک اک کر کے ہوا ختم ہر امکان مرا

اس محبت پہ میں اتنا ہی کہوں گا شاہینؔاک ستارے نے سفر کر دیا آسان مرا

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں