6 اشعار

دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم

Dasht-e-na-deedah se phir rabt badhane lage hum

دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم

«دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہمدل ہی دل میں سہی کچھ خاک اڑانے لگے ہم

پہر دو پہر کو وہ عشق تھا اک عمر کا عشقآئنہ دیکھا تو کچھ اتنے پرانے لگے ہم

کہیں زنجیر کا یہ حلقہ اضافی ہی نہ ہودیکھ اس خواب سے آگے نظر آنے لگے ہم

مسئلہ باغ محبت کا وہ پہلا سا نہیںگل کھلانے کی جو تھی شرط اٹھانے لگے ہم

بہتے بہتے انہیں آنکھوں میں کہیں ڈوب گئےچلئے اچھا ہے کسی طور ٹھکانے لگے ہم

بات تصویر نے کہہ دی کہ جو مطلب کی نہ تھییک بہ یک منظر جاں چھوڑ کے جانے لگے ہم

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں