اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
کلام: ندا فاضلی
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگاوہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھےروشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا
ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی
مہمان شاعر: ندا فاضلی
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگاوہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھےروشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتاکہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہوجہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا