دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
کلام: ندا فاضلی
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھوزندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتیدل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھو
ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی
مہمان شاعر: ندا فاضلی
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھوزندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتیدل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھو