مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھے
کلام: حفیظ جالندھری
مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھےعشق میں بھول گیا کچھ نہ رہا یاد مجھے
کیا میں دیوانہ ہوں یارب کہ سر راہ گزردور سے گھورنے لگتے ہیں پری زاد مجھے
ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)
مہمان شاعر: حفیظ جالندھری
مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھےعشق میں بھول گیا کچھ نہ رہا یاد مجھے
کیا میں دیوانہ ہوں یارب کہ سر راہ گزردور سے گھورنے لگتے ہیں پری زاد مجھے