دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا
کلام: حفیظ جالندھری
دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھاپھر بھی دل ہی میں رہوگے مجھے معلوم نہ تھا
ساتھ دنیا کا میں چھوڑوں گا تمہاری خاطراور تم ساتھ نہ دو گے مجھے معلوم نہ تھا
ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)
مہمان شاعر: حفیظ جالندھری
دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھاپھر بھی دل ہی میں رہوگے مجھے معلوم نہ تھا
ساتھ دنیا کا میں چھوڑوں گا تمہاری خاطراور تم ساتھ نہ دو گے مجھے معلوم نہ تھا