مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے
کلام: حفیظ جالندھری
مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیےپیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیے
ہاں احترام کعبہ و بتخانہ چاہیےمذہب کی پوچھیے تو جداگانہ چاہیے
ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)
مہمان شاعر: حفیظ جالندھری
مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیےپیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیے
ہاں احترام کعبہ و بتخانہ چاہیےمذہب کی پوچھیے تو جداگانہ چاہیے