یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے
کلام: حفیظ جالندھری
یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہےبات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے
باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پراگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے
ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)
مہمان شاعر: حفیظ جالندھری
یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہےبات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے
باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پراگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے
کوئی چارہ نہیں دعا کے سواکوئی سنتا نہیں خدا کے سوا
مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوامجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا