7 اشعار

مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے

Mil jaaye may to sajda-e-shukrana chahiye

مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے

«مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیےپیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیے

ہاں احترام کعبہ و بتخانہ چاہیےمذہب کی پوچھیے تو جداگانہ چاہیے

رندان مے پرست سیہ مست ہی سہیاے شیخ گفتگو تو شریفانہ چاہیے

دیوانگی ہے عقل نہیں ہے کہ خام ہودیوانہ ہر لحاظ سے دیوانہ چاہیے

اس زندگی کو چاہیے سامان زندگیکچھ بھی نہ ہو تو شیشہ و پیمانہ چاہیے

او ننگ اعتبار دعا پر نہ رکھ مداراو بے وقوف ہمت مردانہ چاہیے

رہنے دے جام جم مجھے انجام جم سناکھل جائے جس سے آنکھ وہ افسانہ چاہیے

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں