ریکارڈ شدہ ایکس سپیس 1 فروری 2026

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا

مہمان شاعر: محمد رفیع سودا

18
سپیکرز
280
سامعین

سپیکرز

کسی سپیکر کو منتخب کریں — ان کا پیش کردہ کلام نیچے

محمد رفیع سودا — مہمان شاعر

مرزا محمد رفیعؔ، تخلص سودا، اردو ادب کے عظیم کلاسیکی شاعر تھے، جن کی پیدائش تقریباً 1713ءمیں دہلی میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا جس کے آباؤ اجداد ابتدائی طور پر تجارت یا فوجی پیشے سے وابستہ تھے۔ والد مرزا محمد شفیع نے ہندوستان میں تجارت اختیار کی اور دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم میں انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور فارسی میں شاعری کا آغاز کیا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اردو شاعری کی طرف رخ کیا اور اس سلسلے میں انہیں خان آرزو، سلیمان قلی داد، اور شاہ حاتمؔ کی رہنمائی حاصل ہوئی، جس سے ان کی فکری اور ادبی تربیت مضبوط ہوئی۔سودا کی ابتدائی اور طویل رہائش دہلی میں رہی، جہاں وہ مغلیہ دربار اور معززینِ شہر کے زیر سرپرستی شاعری کرتے رہے۔ بعد میں سیاسی اور سماجی انتشار کی وجہ سے وہ لکھنؤ منتقل ہو گئے، جہاں نواب اسداللہ خان، نواب سعداللہ خان، اور دیگر لکھنؤ کے حکمرانوں کے دربار سے وابستہ رہے۔ سودا کا پیشہ ورانہ ذریعہ معاش شاعری اور ادبی سرپرستی تھا۔ وہ قصید...

مکمل تعارف اور کلام ‹