چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا
کلام: محمد رفیع سودا
چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھاپردے میں تھا آفتاب دیکھا
کیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کےیوسف کی طرح میں خواب دیکھا
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا
مہمان شاعر: محمد رفیع سودا
چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھاپردے میں تھا آفتاب دیکھا
کیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کےیوسف کی طرح میں خواب دیکھا
ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرستپوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست
اس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹمعدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست