آخری ملاقات
کلام: اخترالایمان
آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!آتی نہیں کہیں سے دل زندہ کی صدا
سونے پڑے ہیں کوچہ و بازار عشق کےہے شمع انجمن کا نیا حسن جاں گداز
کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان
مہمان شاعر: اخترالایمان
آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!آتی نہیں کہیں سے دل زندہ کی صدا
سونے پڑے ہیں کوچہ و بازار عشق کےہے شمع انجمن کا نیا حسن جاں گداز
دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پرکبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پر
کبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میںکبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میں