عمر گریزاں کے نام
کلام: اخترالایمان
عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میںاس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے
واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کاداستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے
کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان
مہمان شاعر: اخترالایمان
عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میںاس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے
واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کاداستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے
رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹیپتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسے
دیکھنا چاہتی ہیں شہر میں کیا ہوتا ہےمیں ہمیشہ کی طرح ہونٹوں میں سگریٹ کو دبائے