اذیت پرست
کلام: اخترالایمان
میں بظاہر جو بہت سادہ ہوں بے حس نظر آتا ہوں تمھیںایسا دریا ہوں جہاں سطح کے نچےہ چپ چاپ
موجیں شوریدہ ہیں، طوفان اٹھا کرتے ہیںٹھہرا پانی ہوں، مگر اس میں بھنور پڑتے ہیں
کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان
مہمان شاعر: اخترالایمان
میں بظاہر جو بہت سادہ ہوں بے حس نظر آتا ہوں تمھیںایسا دریا ہوں جہاں سطح کے نچےہ چپ چاپ
موجیں شوریدہ ہیں، طوفان اٹھا کرتے ہیںٹھہرا پانی ہوں، مگر اس میں بھنور پڑتے ہیں
شہر در شہر، قریہ در قریہسال ہا سال سے بھٹکتا ہوں
بارہا یوں ہوا کہ یہ دنیامجھ کو ایسی دکھائی دی جیسے