بنت لمحات
کلام: اخترالایمان
تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہےاسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ
غنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پردیار درد میں آمد کہو مسیحا کی
کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان
مہمان شاعر: اخترالایمان
تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہےاسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ
غنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پردیار درد میں آمد کہو مسیحا کی
دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچے
ماضی و حال گنہ گار نمازی کی طرحاپنے اعمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکے